نیٹو سپلائی لائن دوبارہ بحال کی گئی توجماعت اسلامی سڑکوں پر آجائے گی۔عدالتی کمیشن کے مطابق منصور اعجاز کے بیان کو بیرون ِ ملک جا کر ریکارڈ کیا جائے ۔اداروں کے درمیان سازشیں کرنے والے کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں۔امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر کا منصورہ میں اجلاس سے خطاب
نیٹو سپلائی دوبارہ بحال کی گئی تو جماعت اسلامی سڑکوں پر ہوگی۔نام نہاددہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کو60ارب ڈالر کا نقصان ہوچکاہے۔پاکستان کو اب اس امریکی جنگ سے باہر آجانا چاہئے۔قوم امریکی سازشوں اور بھارتی جارحیت کے خلاف بیدار ہوچکی ہے۔حکمرانوں کی عیاشیوں کے باعث ملک کا ہر شہری 61ہزار روپے کا مقروض ہے۔اگر وزیر اور مشیر اپنے اللے تللے کنٹرول کرلیں تو ہر سال قومی خزانے کو ایک ہزارارب روپے کی بچت ہوسکتی ہے۔ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر نے گزشتہ روز منصورہ میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر نذیر احمد جنجوعہ اور اللہ بخش سیال بھی موجو تھے۔انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی نے جب25مارچ2008کو وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا تھا تو اس وقت وزیراعظم سیکرٹریٹ کا یومیہ اخراجات 6لاکھ روپے تھے تاہم اب یہ بڑھ کر15لاکھ روپے یومیہ تک پہنچ چکے ہیں۔4سال قبل کا بینہ ڈویژن یومیہ بنیادوں پر40لاکھ روپے خرچ کرتی تھی جو اب 80لاکھ روپے ہوگئے ہیں جبکہ2009-10میں کابینہ ڈویژن کے الائونس 7کروڑ روپے تھے جو اب 70فیصد اضافے سے20کروڑ روپے ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا ان تمام اخراجات اور حکمرانوں کی عیاشیوں کے باعث معیشت مسلسل زوال پزیر ہے۔ملک میںتاریخ کی بدترین مہنگائی،بیروز گاری اور غربت کے نئے ریکارڈ بن رہے ہیں۔جماعت اسلامی ملک و قوم کو مسائل کی دلدل سے نکال سکتی ہے۔ڈاکٹر سید وسیم اختر نے مزید کہا کہ حکومت کا جمہوریت اور عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔مفاد پرستوں سے ملک میں انقلاب نہیں آئے گا۔عدالتی کمیشن کے مطابق منصور اعجاز کے بیان کو بیرون ملک جا کر ریکارڈ کیا جائے۔’’میموگیٹ‘‘ایک حقیقت ہے ذمہ داران کا تعین ہونا چاہئے،اداروں کے درمیان سازشیں کرنے والے کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں۔