متاثر ہ علاقوں میں حکومت یوٹیلٹی بلز ختم اور کسانوں کے قرضے معاف کرے۔حکومت ہٹ دھرمی و ضد کا مظاہرہ کرنے کی بجائے قومی فلڈ ریلیف کمیشن تشکیل دے۔امیرجماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر کا متاثرہ امرائ اضلاع سے ملتان میں خطاب
جماعت اسلامی جنوبی پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ امرائ اضلاع ایک خصوصی اجلاس امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اخترکے زیر صدارت ’’دارالسلام‘‘میں منعقد ہوا۔جس میں الخدمت فائونڈیشن پنجاب کے صدر راشد دائود،جماعت اسلامی کے صوبائی سیکرٹری جنرل نذیراحمد جنجوعہ،صوبائی نائب امیر چوہدری عزیز لطیف،ڈپٹی سیکرٹری جنرل رائو ظفر اقبال،کوآرڈینیٹر ریلیف پروگرام برائے جنوبی پنجاب رائو محمد ظفر کے علاوہ جھنگ سے محمد حسین،طاہر نسیم،میانوالی سے عبدالمنان،بھکر سے ثنائ اللہ اعوان ،لیہ سے چوہدری مبشر نعیم،ملک الٰہی بخش،مظفر گڑھ سے ارشاد احمد چیمہ،ملک امتیاز احمد کھک،ملتان سے پروفیسر اے اے افتخار۔ڈاکٹراشرف علی عتیق اور میڈیا کوآرڈینیٹرکنور محمد صدیق نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے امرائ اضلاع راستہ بند ہونے کی وجہ سے شریک نہیں ہوسکے۔اجلاس میں جماعت اسلامی اور الخدمت فائونڈیشن کے تحت سیلاب زدہ علاقوں میں ہونے والے ریلیف اور ریسکیو کے کاموں کاجائزہ لیاگیا۔آئندہ کے لیے ریلیف اور بحالی کے کاموں کے لے حکمت عملی طے کی گئی۔اجلاس میں تمام امرائ اضلاع نے رپورٹس پیش کیں۔اجلاس میں امیر صوبہ ڈاکٹر سید وسیم اختر نے تمام امرائ اضلاع کو ہدایت کی کہ وہ ریلیف اوربحالی کے کاموں میں مصروف ہیں۔جماعت اسلامی پنجاب کی جانب سے متاثرہ اضلاع میں اب تک 42رہائش ریلیف کیمپ لگائے گئے ہیں۔327ٹرک خوراک اور پونے دو کروڑ روہے ان اضلاع کو ریلیف کے کاموں و دیگر ضروریات کے لیے بھجوائے گئے ہیں۔انہوںنے کہا کہ 25200افراد کو کھانا فراہم کیاجارہاہے۔جبکہ 59678خاندانوںکو راشن پیک دیے گئے ہیں۔4700خاندانوں کو مختلف جگہوں پر رکھاگیاہے۔4890رضاکار خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔جبکہ 27مستقل میڈیکل کیمپ اور درجنوں موبائل ریلیف کیمپ کام کررہے ہیں۔175ڈاکٹرز،پیرا میڈیکس خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔جبکہ مقامی سطح پر جمع کیاجانیوالا فنڈ اور خوراک اس کے علاوہ ہے۔انہوں نے کہاکہ جو متاثرین سیلاب میں تقسیم کیاگیاہے۔ڈاکٹر سید وسیم اختر نے کہاکہ سیلاب سے پورے ملک میں بہت بڑی تباہی آئی ہے۔600ارب سے زائد کا نقصان ہواہے۔مکانات۔فصلیں اور کاروبار سب کچھ تباہ ہوگیاہے۔پانی اترنے کے بعد امراض پھیلنے کا خطرہ ہے۔جس کی روک تھام کے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔متاثرہ علاقوں میں حکومت یوٹیلٹی بلز ختم کرے کسانوں کے قرضے معاف کرنے اور آئندہ فصلیں کاشت کرنے کے لیے بلاسود فی کس 3لاکھ امداد دی جائے۔انہوںنے کہاکہ جماعت اسلامی اور الخدمت فائونڈیشن کے کارکنان مکمل بحالی تک اپنی خدمات سرانجام دیتے رہیں گے۔انہوںنے کہاکہ اتنے بڑے پیمانے پر نقصان حکومت اور اداروںکی غفلت اور لاپرواہی کی بنائ پر ہواہے۔اگر محکمہ موسمیات اور پانی کی صورت کے بارے میں اطلاع پربروقت اقدامات کیے جاتے تو اس وقت تباہی سے بچاجاسکتاتھا۔انہوںنے کہاکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی ذمہ داری پوری کرنے میںمکمل طور پر ناکام رہی ہے۔عوام پریشان اور مایوس ہیں۔انہوںنے کہاکہ حکومت ہٹ دھرمی و ضد کا مظاہرہ کرنے کی بجائے قوم فلڈریلیف کمیشن تشکیل دے۔اندرون ملک اور بیرون ملک سے ملنے والی امداد متاثرہ افراد تک صاف اور شفاف طریقے پہنچ سکے اور لوگوں کا اعتماد بحال ہوسکے۔